نتڑیوں کی کار کردگی میں خرابی واقع ہونے سے پیدا ہونے والی بیماری کو’’ بواسیر‘‘ کہتے ہیں ۔ یہ مرض گرمی کی نسبت سردی کے موسم میں زیادہ رو نما ہوتا ہے،کیونکہ سردیوں میں عام طور پر ہم پانی کم پیتے ہیں۔نتیجتاً جسم میں خشکی کا غلبہ ہو کر انتڑیوں کے افعال میں نقص پیدا ہو جاتا ہے جو بواسیر کی شکل میں ظاہر ہوکر تکلیف کا سبب بنتا ہے۔اسباب

دائمی قبض، ثقیل، مرغن، ترش اور بادی اشیاء کا زیادہ استعمال،تیز جلاب اور ادویات کا مسلسل کھانا،سستی،کاہلی،خواتین میں دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ بندشِ حیض اور دورانِ حمل بھی بواسیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ منشیات،کولا مشروبات بیکری مصنوعات،بڑے گوشت کا تواتر سے استعمال، بیگن ،دال مسور،چائے اور سگریٹ نوشی کی کثرت بھی بواسیر کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے لوگ مسالے دار غذا بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ نظامِ زندگی میں تواتر، تسلسل، ربط اور توازن کا فقدان اس بیماری کا ایک بڑا سبب ہے۔ جبکہ اس بیماری کے دیگر اسباب میں غیر متوازن خوراک، وقت بے وقت کھاتے رہنا، بغیر بھوک کے کھانا۔پانی تھوڑی مقدار میں پینا۔ذہنی پریشانیاں یا ڈیپریشن۔یرقان کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کہ یرقان میں جگر تازہ خون نہیں بناتا۔ذیابیطس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔زیادہ دیر تک کرسی پر بیٹھے رہنا بھی شامل ہیں۔